Written By: Syeda Fakiha Zaidi
نئی نویلی ماوں کے میسیجز آتے ہیں یا مختلف گروپس میں پوسٹنگ ہوتی ہے کہ بریسٹ فیڈنگ کے ساتھ گھریلو کام کاج کیسے کریں؟ بچہ چپکا رہتا ہے۔ فیڈ ہی کرتا رہتا ہے۔ کیا کروں؟
بات کریں تو پتا چلتا ہے کہ بچے کی عمر دس دن سے لیکر تین ماہ کے درمیان ہے۔ مجھے ماوؤں پر بہت پیار آتا ہے۔ انہیں ٹائم مینیجمنٹ کی ترکیبیں اور دو منٹ میں کام ختم کرنے کے ٹوٹکوں سے زیادہ سننے اور سمجھنے کا احساس چاہیے۔ پھر ان کی بجائے ان کے اردگرد موجود افراد سے بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔
! سو پیاری نندوں ، بھابھیوں ، بہنوں ، کزنز اور اميوں
بچے نے نو ماہ ایک جگہ کو جائے قرار رکھا۔ اب اس کی جائے پناہ ماں کا جسم ہی ہے۔ اسے بھوک سے بچاو چاہیے، اسے لمس چاہیے، اسے سکون چاہیے۔ گروتھ سپرٹس میں، کلسٹر فیڈنگ میں۔۔ وہ ماں کو تلاشے گا۔ اسے ماں ہی چاہیے اور پھر وہ ہمیشہ بچہ تھوڑی رہے گا؟ ماں اور بچے کو کم از کم 3 ماہ دیں۔ اس پر کام کا بوجھ اور ہر وقت کا ان کہا دباو کم کر دیں۔
لگے کہ نصیحت ضروری ہے تو کسی دن سر کا مساج کر دیں۔ کسی دن اسے کہیں کہ جاو فریش ہو جاو، میں بچہ دیکھتی ہوں۔ بچے کو بہلا کر ماں کو کہیں کہ دو گھڑی سو جاو۔ جب وہ ریلیکس ہو تو پھر اس سے نرمی سے بات کریں کہ معاملات ایسے اور ایسے ہینڈل بھی کیے جا سکتے ہیں۔ انا کے خول سے باہر نکلیں۔ ایک جان کے لیے آسانی کریں۔ اللہ آپ کے لیے آسانی کرے گا۔
پہلے سے طے کریں کہ تین ماہ تک ماں پر کام کی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ بس ماں اپنا اور بچے کے ضروری کام کرے گی۔
اب گھر کے کام کون کرے؟
!!گھر کے افراد
ساس بوڑھی ہیں۔
جتنا کر سکتی ہیں، کر لیں۔ باقی چھوڑ دیں۔
شوہر جاب پر ہے۔
گھر آ کر جتنی مدد کر پائے، کافی ہے۔
نند پڑھ رہی ہے۔
پڑھائی سے فرصت ملے تو گھر کے کاموں کو دیکھ لیں۔
نئی نویلی ماں اور بچے کو ستانے سے بہتر ہے کہ گھر کے کاموں کو سر پر سوار نہ کریں۔ کیا ہوا جو دو چار دن برتن بروقت نہ دھلے؟ کیا ہو گا کہ اگر روز صفائی نہ ہوئی؟ چند دن سے کچھ نہیں ہو جائے گا۔ یقین رکھیے۔
بہت بہتر ہے کہ تین سے چھ ماہ کے لیے گھر کے انتہائی ضروری کاموں اور جن میں وقت زیادہ صرف ہو، ہیلپر رکھ لی جائے۔ یہ سب پری پلان ہونا ضروری ہے اور ضروری ہے کہ صرف پہلے بچے کی دفعہ نہیں، ہر بچے کی دفعہ ماں کو اتنا سا بریک مل جائے۔
<3
Beautiful
😍
Allah sab ko samj dey
Very thoughtful
Thank you for sharing
🌹