Written By: Syeda Fakiha Zaidi

ٹین ایجر لڑکیوں کو دیکھتی ہوں تو حلق سے جنک فوڈز کے علاوہ کچھ اترتا ہی نہیں ہے۔ پڑھائی اور پھر جاب کی ٹینشن میں ڈھنگ سے تین وقت کا کھانا کھانا تو خواب و خیال ہوا۔ ہاتھ بڑھا کر چپس کا پیکٹ کھول لیا اور کام کرتے کرتے وہی چگ لیا اور پیٹ بھر گیا۔ اسی اثناء میں شادی کے شادیانے بجے تو اب شاپنگ اور لیپاپوتی سے کہاں فرصت ہے کہ کچھ پیٹ میں ڈالا جائے؟ اگر کچھ فکر ہو ہی گئی تو مقصد ڈائٹنگ اور گلوئنگ سکن کے علاوہ شاید ہی کچھ اور ہو۔
شادی کے بعد ادھر پیریڈز مس ہوئے اور ادھر سب کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔

"بیٹا تین وقت کھانا کھانا"
"بیٹا دودھ روزانہ یاد سے پینا۔"
"بیٹا کولڈ ڈرنک کو ہاتھ نہ لگاو"
"ہائے ہائے۔۔اب تو یہ گند مند چھوڑ دو"

پریگنینسی کی خبر ملتے ہی بچی پر اس کا روٹین کا کھانا حرام ہو جاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں اس پابندی سے سخت نالاں نظر آتی ہے اور موقع ملتے ہی نظریں چرا کر جنک فوڈ ضرور کھاتی ہے۔ لڑکیوں کو ٹین ایج میں اس متعلق گائیڈ کیوں نہیں کیا جاتا؟ بچے نہیں سمجھتے تو شادی کے شادیانے بجانے سے پہلے ہم بچے کی کاونسلنگ کیوں نہیں کرتے کہ بیٹا! شادی صرف زیور کپڑے نہیں ہیں۔ اولاد کی ذمہ داری نبھانی ہے۔ اپنے لیے نہ سہی، اپنے مستقبل کے لیے، پریگنینسی میں مسائل سے بچنے کے لیے ہی اچھا کھاو پیو۔ ہمارے یہاں ابھی لڑکیوں کو ہی بہتر آگاہی نہیں دی جاتی حالانکہ شادی سے پہلے لڑکے کی بھی ایسی ہی کاونسلنگ ضروری ہے کیونکہ صرف ماں نہیں باپ بھی ہاف ڈی این اے کے ساتھ بچے کی امیونیٹی اور دماغی نشوونما وغیرہ کا ذمہ دار ہے۔
شادی سے پہلے کاونسلنگ اور شادی کے بعد یاددہانی والدین اور آنے والے بچے کے لیے بہت آسانی کر دیں گے۔